Thursday 25 April 2019

Dars E Quran Dars E Hadess Books Library Media Gallery

Books & Magazine

جام شھود جنوری تا مارچ 2019

جام شھود جنوری تا مارچ 2019

(اسلام کے پیغمبر (ہندی

(اسلام کے پیغمبر (ہندی

جام شہود  جولائی تا ستمبر ۲۰۱۸ء

جام شہود جولائی تا ستمبر ۲۰۱۸ء

Jame shuhood

Jame shuhood

آئینہ حافظؤ ملت

آئینہ حافظؤ ملت

12 Raushan Karamaten Book

12 Raushan Karamaten Book

july-dec 16 pdf

july-dec 16 pdf

Paighameislam Introduction book

Paighameislam Introduction book

NAAT GOEE

NAAT GOEE

Oct - Dec 2013

Oct - Dec 2013

Jan - Mar

Jan - Mar

( اپریل تا جون ۲۰۱۳   )

( اپریل تا جون ۲۰۱۳ )

اپریل تا جون ۲۰۱۳ء

اپریل تا جون ۲۰۱۳ء

(اپریل تا جون ۲۰۱۲)

(اپریل تا جون ۲۰۱۲)

(اپریل تا جون ۲۰۱۲)

(اپریل تا جون ۲۰۱۲)

(جنوری تا مارچ۲۰۱۴)

(جنوری تا مارچ۲۰۱۴)

Jame Shuhood

Jame Shuhood

(جولائی تاسپتمبر ۲۰۱۳)

(جولائی تاسپتمبر ۲۰۱۳)

(صحیح بخاری اور رفعِ یدین)

(صحیح بخاری اور رفعِ یدین)

(اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۲)

(اکتوبر تا دسمبر ۲۰۱۲)

Super User

Super User

Tuesday, 05 February 2019 14:11

Paigham-e-Islam Masjid & Islamic Center

"Paigham-e-Islam Masjid & Islamic Center"ke 4th Floor ki Dhalaee, Alhamdulillah Jari hai.......Aur Raat 11/12 Tak kaam chalega.......AAP Hazraat ab bhi shreek hosakte Hain........ Shukriya?

Tuesday, 05 February 2019 13:40

درس قرآن

اپنا دل دیکھیں کہ کونسا ھے۔۔۔؟❤دل کی 13 اقسام ﺩﻟﻮﮞ ﮐﯽ ﻭﻩ ﺍﻗﺴﺎﻡ ﺟﻦ ﻛﺎ ﻗﺮﺁﻥ ﻣﺠﻴﺪ ﻣﻴﮟ ﺫﻛﺮ ﮨﮯ#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺴﻠﻴﻢ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺧﺎﻟﺺ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻛﻔﺮ، ﻧﻔﺎﻕ ﺍﻭﺭ ﮔﻨﺪﮔﯽ ﺳﮯ ﭘﺎﮎ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺸﻌﺮﺍﺀ، ﺍﻵﻳﺔ89:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻨﻴﺐ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﺳﮯ ﺗﻮﺑﮧ ﻛﺮﻧﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﮐﯽ ﺍﻃﺎﻋﺖ ﻣﻴﮟ ﻟﮕﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ..ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ33:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺨﺒﺖ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺟﻬﻜﺎ ﮨﻮﺍ ﻣﻄﻤﺌﻦ ﺍﻭﺭ ﺳﻜﻮﻥ ﻭﺍﻻ ﮨﻮﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ54:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻮﺟﻞ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻧﯿﮑﯽ ﻛﮯ ﺑﻌﺪ ﺑﮭﯽ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﮐﮧ ﭘﺘﮧ ﻧﮩﯿﮟ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮﮮ ﮔﺎ ﻳﺎ ﻧﮩﻴﮟ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﻋﺬﺍﺏ ﺳﮯ ﮨﺮ ﻭﻗﺖ ﮈﺭﺗﺎ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻨﻮﻥ، ﺍﻵﻳﺔ60:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺘﻘﯽ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﺷﻌﺎﺋﺮ ﮐﯽ ﺗﻌﻈﻴﻢ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ32:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻬﺪﯼ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﻛﮯ ﻓﻴﺼﻠﻮﮞ ﭘﺮ ﺑﮭﯽ ﺭﺍﺿﯽ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ ﺍﻭﺭ ﺍﭘﻨﮯ ﺭﺏ ﻛﮯ ﺍﺣﮑﺎﻣﺎﺕ ﻛﻮ ﺑﻬﯽ ﺑﺨﻮﺷﯽ ﻗﺒﻮﻝ ﻛﺮ ﻟﻴﺘﺎ ﮨﮯ...#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﻄﻤﺌﻦ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﺲ ﻛﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﺗﻮﺣﻴﺪ ﺍﻭﺭ ﺍﺱ ﻛﮯ ﺫﻛﺮ ﺳﮯ ﮨﯽ ﺳﻜﻮﻥ ﺁﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺮﻋﺪ، ﺍﻵﻳﺔ28:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﺤﺊ: ﯾﮧ ﻭﻩ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺍﻟﻠّٰﮧ ﮐﯽ ﻧﺎﻓﺮﻣﺎﻥ ﻗﻮﻣﻮﮞ ﻛﺎ ﺍﻧﺠﺎﻡ ﺳﻦ ﻛﺮ ﺍﻥ ﺳﮯ ﻋﺒﺮﺕ ﺍﻭﺭ ﻧﺼﺤﻴﺖ ﺣﺎﺻﻞ ﻛﺮﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﻕ، ﺍﻵﻳﺔ37:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺮﯾﺾ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺷﮏ، ﻧﻔﺎﻕ، ﺑﺪﺍﺧﻼﻗﯽ ﺍﻭﺭ ﮨﻮﺱ ﻭ ﻻﻟﭻ ﻭﻏﯿﺮﮦ ﺟﯿﺴﮯ ﺍﻣﺮﺍﺽ ﻣﯿﮟ ﻣﺒﺘﻼ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﺣﺰﺍﺏ، ﺍﻵﻳﺔ32:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻷﻋﻤﻰ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺩﯾﮑﮭﺘﺎ ﮨﮯ ﻧﮧ ﺳﻨﺘﺎ ﮨﮯ، ﺍﺣﺴﺎﺱ ﺳﮯ ﻋﺎﺭﯼ ﮨﮯ، ﺣﺘٰﯽ ﮐﮧ ﺍﻧﺪﮬﺎ ﮨﮯ... ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺤﺞ، ﺍﻵﻳﺔ46:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻼﻫﻰ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻗﺮﺁﻥ ﺳﮯ ﻏﺎﻓﻞ، ﺩﻧﯿﺎ ﮐﯽ ﺭﻧﮕﯿﻨﯿﻮﮞ ﻣﯿﮟ ﻣﮕﻦ ﺭﮨﺘﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻻﻧﺒﯿﺎﺀ، ﺍﻵﻳﺔ3:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻵﺛﻢ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﺣﻖ ﭘﺮ ﭘﺮﺩﮦ ﮈﺍﻝ، ﺍﺱ ﮐﯽ ﮔﻮﺍﮨﯽ ﭼﮭﭙﺎﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﺒﻘﺮﮦ، ﺍﻵﻳﺔ283:#ﺍﻟﻘﻠﺐ_ﺍﻟﻤﺘﻜﺒﺮ: ﯾﮧ ﻭﮦ ﺩﻝ ﮨﮯ ﺟﻮ ﻣﺘﮑﺒﺮ ﺍﻭﺭ ﺳﺮﮐﺶ ﮨﮯ، ﺟﺲ ﮐﻮ ﺍﭘﻨﯽ ﺩﯾﻨﺪﺍﺭﯼ ﭘﺮﮔﮭﻤﻨﮉ ﮨﮯ، ﺍﺱ ﻟﺤﺎﻅ ﺳﮯ ﯾﮧ ﺩﻝ ﻇﻠﻢ ﻭ ﺟﺎﺭﺣﯿﺖ ﮐﺎ ﮔﮭﺮ ﮨﻮﮐﺮ ﺭﮦ ﺟﺎﺗﺎ ﮨﮯ...ﺳﻮﺭﺓ ﺍﻟﻤﺆﻣﻦ،

Tuesday, 05 February 2019 13:38

درس حدیث

آج اگر ہم اپنے گرد وپیش پہ نگاہ ڈالیں تو الا ماشاءاللہ اُمت کو ہم ’خس وخاشاک‘ کی اسی حالت میں پاتے ہیں جو کہ چودہ صدیاں پیشتر رسول اللہ ﷺ بیان فرما گئے ہیں:”یوشک ان تداعی علیکم الامم کما تداعی الاکلۃ علی قصصتہا“ قالوا: امن قلۃ نحن یومئِذِ یا رسول اﷲ؟ قال: ”بل اَنتم یومئذٍ کثیر، ولکنکم غثاءکغثاءالسیل، ولینزعن اﷲ المہابۃ من صدور اعدائکم، ولیقذفن فی قلوبکم الوھن”غثاءقالوا: وما الوھن یا رسول اﷲ؟ قال: ”حب الدنیا وکراھیۃ الموت“ (1)(1) اخرجہ احمدو ابوداؤد”قریب ہے کہ دُنیا کی قومیں تم پر یوں ٹوٹ پڑیں جیسے بھوکے کھانے کے تھال پر ٹوٹ پڑتے ہیں“ صحابہ نے عرض کی: اے اللہ کے رسول کیا اس لئے کہ تب ہم بہت تھوڑے ہوں گے؟ فرمایا ”نہیں نہیں! اس روز تعداد میں تو تم بہت زیادہ ہو گے۔ مگر تم خس وخاشاک ہو گے جیسے خس وخاشاک سیلاب (کی سطح) پر ہوا کرتے ہیں۔ خدا تمہارے دشمنوں کے سینوں سے تمہاری ہیبت ختم کردے گا اور تمہارے دلوں میں وَھَن (کمزوری) ڈال دے گا صحابہ نے عرض کیا: اے اللہ کے رسول یہ وَھَن کیا ہوگا؟ فرمایا: ”دُنیا پہ ریچھ جانا اور موت سے جی چرانا“۔

Friday, 17 November 2017 23:01

NAAT GOEE

"تحریک پیغام اسلام" نے اس بار "الاصدق ایجوکیشنل اینڈ ویلفیر سوسائٹی" کے اشتراک سے سیلاب متاثرین کی امداد کے لیے برادر اصغر مولانا سید نورالدین اصدق چشتی کی قیادت میں ریلیف ٹیم "سیمانچل" کی طرف روانہ کیا ـ


۲۹/ اگست کو"تحریک پیغام اسلام ریلیف ٹیم" تقریباً ۱۲/بجے شب مدھوبنی پہنچی ـ خطیب الصوفیہ،عزیزگرامی مولاناسیدعارف اقبال مصباحی اپنے ادارے کے اساتذہ اورطلبا کے ساتھ سراپاانتظارتھےـ تقریبا24گھنٹے کے لمبے سفرنے ہم سب کے کس بل نکال دئیے تھے،اس لیے پرتکلف کھانے کے بعد جب ہم بسترپرڈھیرہوئے تودنیاومافیھا سے بےخبر ہونے میں زیادہ دیرنہ لگی ـ
اگلی صبح چارگاڑیوں پرمشتمل ہمارا قافلہ مدھوبنی کے بسفی بلاک کی طرف روانہ ہوا،شہر کے مضافات سے نکلتے ہی ہمیں دوردورتک پانی ہی پانی نظرآنے لگاـ مولاناعارف اقبال نے بتایا کہ کچھ دن پہلے تک یہ سڑک بھی پانی میں ڈوبی تھی اورجہاں ہم لوگوں کوجانا ہے وہاں تک پہنچنے کی کوئ صورت نہ تھی ـ اب بھی اس علاقے کے متعدد گاؤں سیلاب کی زد میں ہیں ـ مگر اب تک نہ کوئ سرکاری ریلیف آئ ہے اور نہ ہی کسی تنظیم اور این جیوز نے ادھر کارخ کیا ہے ـ آپ کی تحریک پہلی ہے جو باضابطہ ریلیف لے کر یہاں تک پہنچی ہے ـ بہرحال گھومتی بل کھاتی سڑک پر گھنٹہ بھر چلنے کے بعد دورسے ہی ہمیں جامعہ قادریہ رحمانیہ پوکھرٹولہ کی عمارت نظر آنے لگی ـ ہماری گاڑی جب اس کے احاطے میں داخل ہوئ تو"طلع البدرعلینا"کےمدھرترانےنے کانوں میں رس گھولناشروع کردیا،عورتوں اورمردوں کی ایک بڑی بھیڑ ہماری منتظر تھی ـ بانی ادارہ محب گرامی مولانا ریحان رضاصاحب انجم مصباحی نے آگے بڑھ کر پرتپاک انداز میں خیرمقدم کیاـ ممبئ اور چنددیگرمقامات پران سےملاقات رہی تھی، متحرک،فعال اور قوم کے لیے کچھ کرنے کے جذبے کاہمیں قدرے علم بھی تھا مگر یہاں آکر اندازہ ہواکہ وہ واقعی صحرا کوچمن بنانے کی صلاحیت بھی رکھتے ہیں ـ وسیع وعریض زمین پرزیرتعمیرادارہ اور اس کے منصوبے اس کی غمازی کررہے تھےـ آپ نے اپنی چندکتابیں بھی نذرکیں اورہماری ضیافت کا بہترین انتظام کیا ـ مولانا ریحان صاحب نے اطراف کے وہ کئ گاؤں جو پانی میں گھرے تھے اوروہاں جانے کا ناؤ کے سوا کوئ راستہ نہ تھاوہاں کے ضرورت مندوں کی ایک فہرست تیار کی تھی جس میں کسی طرح کےبھیدبھاؤ،رنگ ونسل اورمذہب کی دیوار نہ تھی اس لیے ایک اچھی تعدادغیرمسلم ناموں کی بھی تھی ـ ہم نے اپنے ساتھ لائے ہوئے 500 سے زائد پاکٹ،جس میں چاول،دال،چوڑا،چنا،گڑ،بسکٹ کے پاکٹس اورلیڈیز،جنٹس اوربچوں کے کپڑے کا ایک سیٹ موجود تھاـ تقسیم کرنا شروع کیاـ تقریباً دس من چاول ، کچھ دال،کپڑوں کے بنڈل وغیرہ بھی الگ سے ہم نے ان کے حوالے کیا ـ
دوسری جانب مولانا عارف اقبال نے خانقاہ عارفیہ کی جانب ایک میڈیکل کیمپ لگایاہواتھااورایک ڈاکٹرمریض کودیکھ کر دواؤں کی تقسیم میں لگا تھا ـ بہارکی خطرناک سیلابی صورت حال میں خانقاہ عارفیہ سیدسراواں الٰہ آباد نے جو خدمت کا عظیم فریضہ انجام دیاہے وہ قابل تحسین بھی ہے اورقابل تقلید بھی ـ اوریہ سب مولانا عارف اقبال مصباحی اور ان کی ٹیم کی کاوش وجدوجہدسے ممکن ہوپایا ـ بہرحال مولانا عارف اقبال نے جس طرح ہمارے 16 افراد پرمشتمل قافلے کی مہمان نوازی اوررہنمائ کی ہم ان کے بے حد مشکورہیں ـ ان کے تعاون سے ہی ہم بہ آسانی اور بحسن وخوبی خدمت خلق کے اس عظیم فریضے کوانجام دے سکےـ میں اپنے تمام معاونین کابھی شکریہ ادا کرتا ہوں جنھوں نے اس کارخیرکے لیےہم پراعتماد کیااورہماری معاونت کی ـ ساتھ ہی ہماری ٹیم کے شرکا جناب خالداقبال،محمد اسماعیل،محمداقبال،محمدعمران،محمد نعیم صاحبان اوران سارےنوجوانوں کے لیے بھی دعاگوہوں جو اس مشن کا حصہ رہےکہ اللہ پاک اپنے حبیب مکرم علیہ الصلاة والسلام کے صدقہ وطفیل ان سب کو شادوآبادرکھے اوراجرعظیم عطا فرمائے ـ آمین
لیکن ابھی ہمارا یہ مشن مکمل نہیں ہوا ہے، متھلانچل کے بعد ہم سیمانچل کے سیلاب زدگان کی امداد کاعزم رکھتے ہیں، اس لیے آپ میں سے جوکوئ اب بھی اللہ کے ان پریشاں حال بندوں کی مدد کرنا چاہتا ہے تو ہم اس کے لیے حاضر ہیں ـ ساتھ ہی ہمارے برادر مولانا سید نورالدین اصدق چشتی مہتمم مدرسہ اصدقیہ مخدوم شرف بہارشریف نالندہ بھی "الاصدق ویلفئیر سوسائٹی" کے تحت ریلیف کے انتظام میں لگے ہیں،لہذامیں تمام وابستگان سلسلہ اصدقیہ،تحریک پیغام اسلام کے متعلقین اوراہل خیرحضرات سے اپیل کرتا ہوں کہ اگر آپ اس علاقے سے قریب ہیں اور ان تک آسانی سے کچھ پہنچاسکتے ہیں تو ضرور پہنچائیں ـ
میں اپنے نئے دوستوں سے یہ بھی اپیل کرتا ہوں کہ آپ اس دعوتی،اصلاحی اور رفاہی تحریک پیغام اسلام کی ممبر شپ(member ship)حاصل کریں اور خدمت دین اسلام اور فلاح قوم وملت کے لیے آگے آئیں ـ
واضح رہے کہ ان خبروں اورتصویروں سے نہ نام ونمود مقصود ہے اور نہ ہی کسی کی توہین وتذلیل، بلکہ یہ ہم اپنے معاونین کوبتانے اور دوسروں کو ترغیب دلانے کی نیت سے کرتے ہیں ـ اللہ پاک ہمیں خلوص وللہیت عطافرمائے اور اپنے مخلص بندوں کے قدموں کے قدموں میں جگہ عنایت فرمادے ـ آمین بجاہ حبیبک سید المرسلین ـ
یہی ہے عبادت ، یہی دین و ایماں
کہ کام آئے دنیا میں انساں کےانساں

خیراندیش:
سیف الدین اصدق غفرلہ
This email address is being protected from spambots. You need JavaScript enabled to view it.
www.paighameislam.co.in
+919709616766

1) Farz

**********
Woh baat ke iske naa karne se aadmi bariuz zimma na hoga — yaha tak ke agar woh kisi ibadat me hai to wo ibadat iske naa karne se baatil (ghalat,be asl) wa maadoom (fana,naa pa'id) hogi. Iska chorna gunah-e-kabira hai.

2) Wajib
************
Woh ke iske na karne se bhi bari uz zimma hone [chutkara paane] ka ehtemaal( possibility) hai magar ghalib gumaan iski zarurat par hai aur agar kisi ibadat me iske baja lana (amal karna) darkaar ho to iske bagair ibadat naqis rehti hai.
Kisi wajib ka ek baar bhi Qasdan (jaanbujhkar) chorna gunah-e-saghira hai aur chand baar chorna gunah-e-kabira hai.

3) Sunnat-e-Moakkidda--
**************************
Woh amal jisko Huzoor Suallallaho Alihe Wassallam ne hamesha kiya ho al-batta kabhi tark bhi farmaya ho(na kiya ho) ya phir woh amal jiske karne ki taakeed farmayi uska karna sawab aur na karna bohat bura hai— yahan tak ke jo iske chorne ki aadat daal le to aazab ka mustahaq hoga.

4) Sunnat-e-Ghair Moakkidda-
********************************
Woh amal ke iska chorna shariyat ko pasand nahi. Iska karna sawab aur na karne par moakhiza(puch taach) nahi.

5) Mustahab-
*****************
Woh amal jo shariyat ki nazar me pasandeeda ho magar chorne par na-pasandeedgi na ho.
Iska karna sawab aur na karne par mutlaqan(bilkul) kuch nahi.

6) Haram-e-Qataee--
***********************
Yeh farz ke muqabil hai. Iska ek baar bhi qasdan karna gunah-e-kabeera aur fisq (gunah na farmani)hai.
Bachna farz wa sawab hai.

7) Makru-e-Tehreemeeh--
*****************************
Yeh wajib ke muqabil hai. Iske karne se ibadat naqis ho jaati hai. Iske karne wala gunah gaar hote hai. Agar cha iska karna haraam ke gunah se kam hai aur chand baar iska karna gunah-e-kabeera hai.

8) Makru-e-Tanzihi-
*********************
Woh jiska karna shariyat ko pasand nahi magar iska amal karne wala azaab ka mustahiq nahi. Yeh Sunnat-e-ghair moakkida ke qabil hai.

9) Khilaf-e-Owla-
*******************
Woh amal ke iska na karna behtar tha. Kar liya to koi harj nahi aur na hi kisi qism ki jhalak hai( ye mustahab ke muqabil hai)..
********************************************
Minjanib:Tahreek Paigham-e-Islam,Jsr(Jh)
********************************************

دم كرنا احادیث مقدسہ کی روشنی میں-:
-------------------------------------------------------------
1۔ حضرت ابوھریرہ رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
ما أنزل اﷲ داء اِلَّا أنزلَ له شفاء.

’’اﷲ تعالیٰ نے کوئی ایسی بیماری نہیں اتاری جس کے لیے شفاء نہ اتاری ہو۔‘‘

بخاری، المتوفی 256ه، الصحيح، 5 : 2151، کتاب الطب، رقم : 5354، دار ابن کثيراليمامة. بيروت، سن اشاعت 1987ء
ابن ماجه، المتوفی 275ه، السنن، 2 : 1138، کتاب الطب، باب لمريض يشتهی الشی، رقم : 3439، دارلفکر. بيروت
بزار، المتوفی 292ه، المسند، 4 : 282، رقم : 1450، مؤسسة علوم القرآن، بيروت، سن اشاعت 1409ه

2۔ حضرت جابر رضی اﷲ عنہ سے مروی ہے رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے فرمایا :
لِکُلِّ دائٍ دواءٌ، فاذا اُصِيْبَ دواءٌ برَأ باذن اﷲ عزوجل.
’’ہر بیماری کیلیے دواء ہے جب دواء بیماری کو پہنچتی ہے، بیماری اﷲ عزوجل کے حکم سے ٹھیک ہو جاتی ہے۔‘‘
مسلم، المتوفی 261ه، الصحيح، 4 : 1729، رقم : 2204، داراحياء التراث العربي. بيروت
حاکم، المتوفی 405ه، المستدرک، 4 : 445، رقم : 8219، دارلکتب العلمية. بيروت، سن اشاعت 1990ء
ابن حبان، المتوفی 354ه، الصحيح، 13 : 428، رقم : 6063، مؤسسة الرسالة. بيروت، سن اشاعت 1993ء
بيهقی، المتوفی 458ه، السنن الکبری، 9 : 343، رقم : 19342، مکتبة دار الباز مکة المکرمة، سن اشاعت 1994ء
حميدی، المتوفی 488ه، الجمع بين الصحيحين، 2 : 386، رقم : 1627، دار ابن حزم لبنان. بيروت، سن اشاعت 2002ء

3۔ حضرت انس رضی اﷲ عنہ سے روایت ہے :
رخَّصَ رَسُوْلُ اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم فِی الرُّقْيَةَ مِنَ العين وَالحُمَةِ والنَّمْلة.
’’رسول اﷲ صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم نے تین چیزوں کیلیے جھاڑ پھونک کی اجازت دی
(1) نظربد
(2) بچھو وغیرہ کے کاٹے پر
(3) پھوڑے پھنسی کیلیے۔‘‘
مسلم، الصحيح، 4 : 1725، رقم : 2196
حميدی، الجمع بين الصحيحين، 2 : 655، رقم : 2164
نسائی، المتوفی 303ه، السنن، 4 : 366، رقم : 7541، دارالکتب العلمية. بيروت، سن اشاعت 1991ء
ابن ابی شيبه، المتوفی 235ه، المصنف، 5 : 43، رقم : 23536، مکتبة الرشد. الرياض، سن اشاعت 1409ه
احمد بن حنبل، المتوفی 241، المسند، 3 : 118، رقم : 12194، مؤسسة قرطبة. مصر

4۔ امّ المؤمنین سیدہ عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا سے روایت ہے :
أن رسول اﷲ صلی الله عليه وآله وسلم کان يأمرها أن تسترقی من العين.
’’کہ رسول صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم ان (حضرت عائشہ صدیقہ رضی اﷲ عنہا) کو نظربد سے بچنے کیلیے جھاڑ پھونک کا حکم دیا کرتے تھے۔‘‘
متفق علیہ
بخاری، الصحيح، 5 : 2166، رقم : 5406
مسلم، الصحيح، 4 : 1725، رقم : 2195
ابن ماجه، السنن، 2 : 1161، رقم : 3512
هندي، المتوفی 975ه، کنزالعمال، 7 : 51، رقم : 18369، دارالکتب العلمية. بيروت، سن اشاعت 1998ء

جنت میں لے جانے والے چالیس اعمال:

اﷲکا ڈر اور اچھا اخلاق
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺ سے ایسے عمل کے بارے میں سوال کیا گیا جو سب سے زیادہ لوگوں کو جنت میں داخل کرے گا ؟ تو رسول اﷲ ﷺ نے فرمایا : اﷲکا ڈر اور اچھا اخلاق ۔
ترمذی،ابواب البروالصلۃ،باب ماجاء فی حسن الخلق:۲۰۰۴ السلسۃالصحیحۃ:۹۷۷

خلوص دل سے کلمے کی شہادت دینا
سیدنا معا ذؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایا جس شخص نے خلوص دل سے یہ شہادت دی کہ اﷲ تعالیٰ کے علاوہ کو ئی معبودبرحق نہیں وہ جنت میں داخل ہوگا۔
مسند احمد:۲۵۵۵:السلسلۃ الصحیحۃ:۲۳۵۵

وفات کے وقت کلمہ شہادت پڑھنا
سیدنا معاذ بن جبلؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اﷲ ﷺنے فرمایاجس شخص کا آ خری کلام ’’لاالہ الا اﷲ‘‘ ہوگا وہ جنت میں داخل ہوگا ۔
ابو داود،کتاب الجنائز،باب فی التلقین:۳۱۱۶:صحیح الجامع الصغیر:۶۴۷۹

اپنے مال کی حفاظت میں قتل ہونا
سیدنا عبداللہ بن عمرو بن عاصؓ سے مروی ہے کو رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص اپنے مال کی حفاظت اور دفاع کرتے ہوئے ناحق قتل کر دیاگیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘
نسائی ،کتاب تحریم الدم،باب من قتل دون ۴۰۹۱،صحیح الجامع الصغیر:۶۴۴۴

یتیم کی کفالت کرنا
سیدنا سہل بن سعدؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’میں اور یتیم کی کفالت کرنے والا جنت میں اس طرح ہوں گے اور آپ نے اپنی انگشت شہادت اور درمیانی انگلی کے ساتھ اشارہ کیا اور ان کے درمیان کچھ فاصلہ ڈالا۔‘‘
بخاری ،کتاب الادب،باب فضل من یعول یتیما:۶۰۰۵

نماز اشراق کی چار رکعات اور نماز ظہر سے پہلے چار رکعات پڑھنا
سیدنا ابو موسیٰ اشعریؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے نماز اشراق کی چار رکعتیں اور پہلی نماز (یعنی نماز ظہر) سے پہلے چار رکعتیں (پابندی سے)پڑھی اس کے لیے جنت میں گھر بنا دیا جاتاہے۔‘‘
السلسلۃ الاحادیث الصحیحۃ :۲۴۴۹

نماز فجر اور نماز عصر باقاعدگی سے ادا کرنا
سیدنا ابو موسیٰؓ سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے دو ٹھنڈے وقت کی نمازیں(یعنی فجر اور عصر)ادا کیں وہ جنت میں داخل ہو گا۔‘‘
بخاری ،کتاب مواقیت الصلاۃ،باب فضل صلاۃالفجر:۵۷۴

ہر فرض نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھنا
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے ہر (فرض) نماز کے بعد آیت الکرسی پڑھی اسے جنت میں داخل ہونے سے صرف موت نے روک رکھا ہے(یعنی وہ مرتے ہی جنت میں داخل ہو جائے گا)۔‘‘
طبرانی کبیر:۸/۱۳۴،صحیح الجامع الصغیر:۶۴۶۴،السلسلۃالصحیحۃ:۹۷۲،ابو نعیم فی الحلیۃ:۳/۴۲۱

کثرت سے نفلی روزے رکھنا
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے کہ انہوں نے عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ! مجھے کسی ایسے عمل کا حکم دیجیے جس کے ذریعے میں جنت میں داخل ہو جاؤں۔ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’(کثرت سے نفلی)روزے رکھا کرو بلاشبہ اس کی مثل کوئی عمل نہیں۔‘‘
مستدرک حاکم:۱/۴۲۱ وصححہ ،صحیح الجامع الصغیر:۴۰۴۴۴

اچھی گفتگو کرنا اور کھانا کھلانا
سیدنا ہانی (بن یزیدؓ ) سے مروی ہے کہ جب وہ رسول اللہ ﷺ کے پاس حاضر ہوئے تو عرض کیا اے اللہ کے رسول ﷺ ! کونسی چیز جنت واجب کرتی ہے؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’اچھی گفتگو کیا کرو اور کھانا کھلایا کرو۔‘‘
مستدرک حاکم:۱/۲۳،صحیح الجامع الصغیر:۴۰۴۹

مسلمان بھائی کی عزت کا دفاع کرنا
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا : جس شخص نے اپنے بھائی (اس کی غیر موجودگی میں) اس کی عزت کا دفاع کیا اللہ تعالیٰ قیامت کے دن اس کے چہرے سے جہنم کی آگ کو دور کردیں گے۔
ترمذی،ابواب البروالصلۃ،باب ماجاء فی الذب عن عرض المسلم:۱۹۳۱،صحیح الجامع الصغیر:۶۲۶۲

زبان اور شرمگاہ کی حفاظت
سیدنا سہل بن سعدؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: جو شخص مجھے اس چیز کی ضمانت دے جو اس کے دو جبڑوں کے درمیان ہے (یعنی زبان) اور جو دو ٹانگوں کے درمیان ہے (یعنی شرمگاہ) میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں۔
بخاری،کتاب الرفاق،باب حفظ اللسان:۶۴۷۴

اللہ تعالیٰ کے ننانوے نام حفظ کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: بلاشبہ اللہ تعالیٰ کے ننانوے (۹۹) نام ہیں ۔جس نے ان کو شمار (حفظ) کر لیا وہ جنت میں داخل ہو گا۔
بخاری،کتاب الشروط،باب مایجوزمن الاشراط والشنیافی الاقرار:۲۷۳۶

سورت اخلاص سے محبت کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نبی کریم ﷺ کے ہمراہ ایسے آدمی کے پاس آیا جو سورۃ اخلاص کی تلاوت کر رہا تھا آپ ﷺ نے فرمایا: ’’واجب ہوگئی‘‘۔ میں نے عرض کیا ،کیا واجب ہو گئی؟ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جنت (واجب ہو گئی)۔‘‘
ترمذی، ابواب فضائل القرآن،باب ما جاء فی سورۃ الاخلاص:۲۸۹۷

مساجد کی طرف جانا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص صبح کو اور شام کو مسجد کی طرف گیا اللہ تعالیٰ اس کے لیے جنت میں مہمان نوازی کا سامان ہر مرتبہ تیار کردیتے ہیں جب بھی وہ صبح یا شام کے وقت گیا۔‘‘
بخاری، کتاب الاذان،باب فضل فن المسجد ومن راح:۶۶۲:مسلم :۲۲۹

دینی علم حاصل کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص حصول علم کے لیے کسی راستے پر چلا اللہ تعالیٰ اس کے لیے اس کے بدلے جنت کا راستہ آسان بنا دیں گے۔‘‘
مسلم کباب الذکر والدعاء والتوبۃ والاستغفار:۲۶۹۹

شرم و حیا ء اختیار کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حیا ء ایمان سے ہے اور ایمان (والے) جنت میں ہو ں گے۔‘‘
ابن ماجہ،الزھد،باب الحیاء:۴۱۸۴، صحیح الجامع الصغیر:۳۱۹۹

بلا ضرورت کسی سے سوال کرنا
سیدنا ثوبانؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: کون ہے جو مجھے اس بات کی ضمانت دے کہ وہ لوگوں سے کسی چیز کا سوال نہیں کرے گا تو میں اسے جنت کی ضمانت دیتا ہوں؟ سیدنا ثوبانؓ نے کہا ’’میں‘‘ پھر وہ کسی سے کچھ نہیں مانگتے تھے۔‘‘
ابو داؤد،کتاب الزکاۃ،باب کراھیۃ المساٗلۃ :۱۶۴۳،حدیث صحیح

تسبیح و تمہید کرنا
سیدنا جابرؓ سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: جس شخص نے ’’سبحا نَ اللہِ العظیم وَبحمدہِ‘‘ کہا اس کے لیے جنت میں ایک کھجور کا درخت لگا دیا جاتا ہے ۔‘‘
ترمذی،کتاب الدعوات،باب [فی فضائل سبحان اللہ وبحمدہ۔۔۔۔۔]:۴۶۵

تکبر ،خیانت اور قرض سے دور رہنا
سیدنا ثوبانؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو روح جسم سے جدا ہوئی اور وہ تین چیزوں ،تکبر،خیانت اور قرض سے بری تھی تو وہ جنت میں داخل ہو گی۔‘‘
ترمذی،ابواب السیر،باب ماجاء فی الغلول:۱۵۷۳،صحیح الترغیب والترھیب:۱۳۵۱

مسجد میں اذان دینا
سیدنا عبداللہ بن عمرؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے بارہ سال (نماز کے لیے)اذان کہی اس کے لیے جنت واجب ہو گئی۔‘‘
ابن ماجہ،ابواب الاثان والسنۃ فیھا،باب فضل الاثان وثواب الموذنین:۷۶۸

عورت کا احکام اسلام کی پابندی کرنا
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ آپ ﷺ نے فرمایا: ’’جو عورت پانچ نمازیں پڑھے ،ماہ رمضان کے روزے رکھے،اپنی شرمگاہ کی حفاظت کرے،اپنے شوہر کی اطاعت کرے تو جنت کے دروازوں میں سے جس سے چاہے داخل ہو جائے۔‘‘
ابن حیان:۱۶۹۲،صحیح الجامع الصغیر:۲۲۰

حج مبرور کرنا
سیدنا ابوہریرہؓ سے مروی ہے آپ ﷺ نے فرمایا: ’’حج مبرور (نیکی والا حج) کا ثواب جنت ہی ہے۔‘‘
بخاری ،کتاب الحج،باب وجوب العمرۃوفضلھا:۱۷۷۳

اللہ سے ڈر کر رونا اور اس کی راہ میں پہرہ دینا
ؓسیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے رسول اللہ ﷺ کو فرماتے ہوئے سنا: ’’دو آنکھوں کو جہنم کی آگ نہیں چھو سکتی۔ ایک وہ آنکھ جو اللہ کے ڈر سے رو پڑی اور دوسری وہ آنکھ جو راہ فی سبیل اللہ میں پہرہ دیتے ہوئے رات گزارتی ہے۔‘‘
ترمذی ،ابواب فضائل الجھاد،باب ماجاء فی فضل الحرس فی سبیل اللہ:۱۲۳۹، صحیح الجامع الصغیر:۴۱۱۳

رضائے الٰہی کی خاطر دینی بھائی کی زیارت کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جس شخص نے کسی مریض کی عیادت کی یا رضائے الٰہی کی خاطر اپنے دینی بھائی کی زیارت کی تو اس کے لیے منادی اعلان کرتا ہے کہ تو خوش ہو جا، تیرا (ان کاموں کے لیے)چلنا عمدہ ہے اور تو نے اپنا ٹھکانا جنت میں بنا لیا ہے
ترمذی، ابواب البروالصلۃ،باب ماجاء فی زیارۃ الاخوان:۶۰۰۸،صحیح الترغیب والترھیب :۶۵۷۸

وضو کے بعد نفل پڑھنا
سیدناعقبہ بن عامرؓسے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو مسلمان بھی وضو کرتا ہے اور اچھا وضو کرتا ہے پھر کھڑا ہو کر دو رکعت نماز ادا کرتا ہے جس میں وہ اپنے دل اور چہرے سے متوجہ رہتا ہے (یعنی کامل خشوع اور یکسائی اختیار کرتا ہے) تو اس کے لیے جنت واجب ہو جاتی ہے۔‘‘
مسلم،کتاب الطھارۃ، باب الذکر المستحب عقب الوضوء:۲۳۴

نبی کریم ﷺ پر درود بھیجنا
سیدنا ابن عباسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص مجھ پر درود بھیجنا بھول گیا(یعنی چھوڑ دیا)اس نے جنت کا راستہ کھو دیا۔‘‘
ابن ماجہ،ابواب اقامۃ الصلاۃ والسنۃ فیھا،باب الصلاۃ علی النبی :۹۰۸، صحیح الترغیب:۱۶۸۲

لا حول ولا قوۃ الا باللہ کہنا
سیدنا ابو موسٰی اشعریؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اے عبداللہ بن قیس! کیا میں تمہیں جنت کے خزانوں میں سے ایک خزانہ نہ بتاؤں؟ میں نے عرض کیا،کیوں نہیں ضرور اے اللہ کے رسول! آپ ﷺ نے فرمایا: کہو ’’لا حول ولا قوۃ الا باللہ‘‘ (نہ ہی کسی برائی سے بچنے کی طاقت ہے اور نہ ہی نیکی کرنے کی قوت مگر اللہ کی مدد کے ساتھ)‘‘
بخاری ،کتاب الدعوات،باب الدعاء اذا علاعقبہ:۶۳۸۴

لین دین میں فیاضی سے کام لینا
سیدنا عثمان بن عفانؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ تعالیٰ نے ایک شخص کو جنت میں داخل کر دیا جو خریدتے وقت ،فروخت کرتے وقت،فیصلہ کرتے وقت اور تقاضا کرتے وقت نرمی (اور فیاضی) سے پیش آتا تھا۔‘‘
ابن ماجہ،ابواب التجارۃ،باب الساحۃ فی البیع :۲۲۰۲، صحیح الترغیب:۱۷۴۳، صحیح الجامع الصغیر:۲۴۳

مصائب پر صبر کرنا
سیدنا ابو امامہؓ سے مروی ہے وہ نبی کریم ﷺ سے بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’اللہ عزوجل فرماتے ہیں ابن آدم ! اگر تو صدمے کے شروع شروع میں صبر کرے گا اور ثواب کی نیت رکھے گاتو میں تیرے لیے ثواب میں جنت ہی دینا پسند کروں گا۔‘‘
ابن ماجہ ،الجنائز،باب ماجاء فی الصبر علی المصیبۃ:۱۵۹۷

آنکھوں کی بینائی چلے جانے پر صبر کرنا
سیدنا انسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ میں نے سنا، رسول اللہ ﷺ فرماتے تھے کہ اللہ تعالیٰ فرماتے ہیں جب میں اپنے بندے کو اس کی دو پیاری چیزوں کے ذریعے سے یعنی آنکھوں سے محروم کر کے آزماؤں،پس وہ اس پر صبر کرے تو میں اس کے بدلے اسے جنت دوں گا۔‘‘
بخاری ،کتاب المرضی،باب فضل،من ذھب بصرہ:۵۶۵۳

اللہ تعالیٰ پر توکل کرتے ہوئے دم طلب نہ کرنا
سیدنا عمران بن حصینؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’میری امت کے ستر ہزار افراد بغیر حساب کتاب کے جنت میں داخل ہوں گے۔صحابہ کرام نے دریافت فرمایا: اے اللہ کے رسول ﷺوہ کون ہوں گے؟ اپ ﷺنے فرمایا: وہ ایسے لوگ ہوں گے جو دم طلب نہیں کرتے،بدشگوفی نہیں پکڑتے اور داغ نہیں لگواتے بلکہ اپنے رب پر توکل رکھتے ہیں۔‘‘
مسلم،کتاب الدلیل علی دخول طوائف من المسلمین الجنۃ بغیر حساب:۲۱۸

کبیرہ گناہوں سے بچنا
سیدنا ابو ایوب انصاری سے مروی ہے کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’جو شخص (قیامت کے دن اس حال میں) آیا کہ وہ اللہ تعالیٰ کی عبادت کرتا تھا،اس کے ساتھ شرک نہیں کرتا تھا، نماز قائم کرتا تھا، زکوٰۃ ادا کرتا تھا، رمضان کے روزے رکھتا تھا اور کبیرہ گناہوں سے بچتا تھا تو یقیناًاس کے لیے جنت ہے۔‘‘
نسائی،کتاب تحریم الدم،باب ذکر الکبائر:۴۰۰۹، صحیح الجامع الصغیر:۶۱۸۵

بکثرت جنت کا سوال کرنا
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جو شخص تین مرتبہ جنت کا سوال کرے تو جنت کہتی ہے، اے اللہ! اسے جنت میں داخل کردے۔‘‘
ابن ماجہ،ابواب الزھد،باب صفۃ الجنۃ:۴۳۴۰، صحیح الجامع الصغیر:۳۶۵۴

سورت ملک کی تلاوت کرنا
سیدنا ابو ہریرہؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’قرآن مجید میں ایک ایسی سورت ہے جس کی تئیس (۲۳)آیات ہیں(یعنی سورت ملک) اس نے (اللہ کے ہاں) ایک آدمی کی سفارش کی، پس اس کو آگ سے نکلوا کر،جنت میں داخل کروادیا۔‘‘
مستدرک حاکم:۲/۴۹۷، صحیح الجامع الصغیر:۲۰۸۸

بیٹیوں کی پرورش کرنا
سیدنا انسؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جس نے دو لڑکیوں کی پرورش کی میں اور وہ ان دونوں (انگلیوں)کی طرح جنت میں داخل ہوں گے اور آپ نے یہ کہتے ہوئے اپنی دونوں انگلیوں کے ساتھ اشارہ کیا۔‘‘
ترمذی،ابواب البروالصلۃ،باب ما جاء فی النفقۃ علی البنات والا خوت:۱۹۱۴، صحیح الجامع الصغیر:۷۱۴۲

ماں کی خدمت کرنا
سیدنا معاویہ بن جاھیمہ سلمیؓ سے مروی ہے کہ جاھیمہ نبی کریم ﷺ کی خدمت میں حاضر ہوئے تو آپ نے دریافت فرمایا: ’’کیا تیری ماں زندہ ہے؟‘‘ انہوں نے کہا ’’ہاں ‘‘۔آپ اللہ ﷺنے فرمایا: ’’اس کی خدمت کیا کرو کیونکہ اس کے قدموں تلے جنت ہے۔‘‘
نسائی،کتاب الجھاد،الرخصۃفی التخلف لمن لہ والدۃ:۳۱۰۶،حدیث صحیح

باپ سے حسن سلوک کرنا
سیدنا ابو درداءؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺ نے فرمایا: ’’باپ جنت (میں داخلے) کا سب سے بہترین دروازہ ہے اب تم اس دروازے کو(نافرمانی اور برے سلوک کے ذریعے)ضائع کر لو یا (اطاعت و فرمانبرداری کے ذریعے) اس کو محفوظ کر لو۔‘‘
ابن ماجہ، ابواب الاداب،باب برالوالدین: ۳۶۶۳ والصحیحۃ:۹۱۴

نابالغ بچوں کی وفات پر صبر کرنا
سیدنا انس بن مالکؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ رسول اللہ ﷺنے فرمایا: ’’جس مسلمان کے بھی تین نابالغ بچے مر جائیں تو اللہ تعالیٰ ان بچوں پر اپنے فضل و رحمت کی وجہ سے اسے جنت میں داخل فرما دیں گے۔‘‘
بخاری ،کتاب الجنائز،باب ما قیل فی اولاد المسلمین:۱۳۸۱

کثرت سے استغفار کرنا
سیدنا عبداللہ بن بسرؓ سے مروی ہے وہ بیان کرتے ہیں کہ نبی کریم ﷺنے فرمایا: ’’اس شخص کے لیے (جنت کی)خوشخبری ہے جس کے نامہ اعمال میں کثرت سے استغفار پایا گیا۔‘‘
ابن ماجہ،ابواب الادب،باب الاستغفار:۳۸۱۸، صحیح الجامع الصغیر:۳۹۳۰
اللہ جل شانہ ہمیں اپنے حبیب مکرم صلی اللہ علیہ وسلم کے صدقہ وطفیل حسن عمل کی توفیق عطا فرمائے: آمین بجاہ حبیبک سیدالمرسلین
من جانب: تحریک پیغام اسلام جمشید پور (جھارکھنڈ)

*?اساتذہ کرام کی خدمت میں چند گزارشات?*

*کمزورطلبا پر محنت کرنے کا طریقہ*:

1، *سب سے پہلے طالب علم کی کمزوری کو سمجھنے کی کوشش کریں* کہ طالب علم میں کمزوری کس اعتبار سے ہے:سماعت بصارت میں کمزوری ہے یا ذہنی کمزوری ہے؟

*اگر کمزوری کی وجہ سماعت ہو*

تو استاذ اپنے قریب بٹھائے اور آواز قدرے اونچی کرے

*اور اگر نگاہ کمزور ہو*
تو بورڈ کے قریب بٹھائے اور اس کے ساتھ ساتھ اس طالب علم کے والدین کو اس کے علاج کی طرف بھی متوجہ کریں۔

*اگر طالب علم ذہنی اعتبار سے کمزور ہو*

تو اس کا طریقہ یہ ہے کہ استاذ سبق باربار کہلوائیں، سبق کو آسان کریں اور نئی نئی مثالیں دے کرسمجھانے کی کوشش کریں اس سے بھی کافی فرق پڑ جائے گا۔

*اگر کمزوری کی وجہ طالب علم کی جھجک یا توتلا پن ہو*
تو ایسے طالب علم کو استاذ خصوصی توجہ دے اور کوشش کرے کہ کوئی اور طالب علم اس طالب علم کا مذاق نہ اڑائے۔

2، *کمزور بچے پر اس طریقے سے محنت کریں* کہ اس بچے کو اور کلاس کے دیگر طلبا کو یہ معلوم نہ ہو کہ یہ طالب علم کمزور ہے ۔

3، *بعض بچے ڈر اور خوف کی وجہ سے گھبرا جاتے ہیں جس سے ان کی استعداد دب جاتی ہے*
ایسے بچوں سے نرمی کا برتاؤ کیا جائے تو ان کی کمزوری دور ہو سکتی ہے۔

4، *کمزور طالب علم کو مَاشَآءَاللّٰہ ،جَزَاكَ اللّٰہ خَیْرًا کہتے رہیں* اور خوب حوصلہ افزائی کریں۔

5، *بعض طلبا کی عمومی صحت کمزور ہوتی ہے جو ان کی تعلیمی کمزوری کا سبب بن جاتی ہے*
اگر ایسی صورت ہو تو والدین کو اس بچے کی صحت کی طرف متوجہ کریں۔

6، *کمزور طالب علم کو نامناسب الفاظ اور مایوس کن کلمات ہر گز نہ کہیں اور نہ کبھی طعنہ دیں،*
جیسے:نکمے، جاہل، احمق، تو تو پڑھ ہی نہیں سکتا،تیری شکل پڑھنے والوں جیسی نہیں ہے، تو پڑھنے میں زیرو ہے، کھیلنے میں تو ہیرو ہے وغیرہ وغیرہ۔

7، *کمزور طالب علم کو انفرادی وقت دیں*۔

8، *کمزور طالب علم کی ذہین طالب علم کے ساتھ جوڑی بنائیں*

9، *کمزور طالب علم کو درس گاہ میں آگے بٹھا ئیں*

10، *کمزور طالب علم سے آسان آسان سوالات پوچھیں تاکہ اس میں خود اعتمادی کی صفت پیدا ہو*

11، *دہرائی والے دن سبق یا د کرانے کی کوشش کریں*

12، *بزم والے دن کمزور طالب علم کاکمزور طالب علم سے مقابلہ کرائیں*

13، *کمزور طالب علم کو اچھے مستقبل کی خوش خبری سناتے رہیں کہ محنت کرتے رہو انشاءاللہ تمہاری محنت ضرور رنگ لائے گی*

14، *کمزور طلبا کے والدین سے ملاقات کے دوران انھیں فکر مند تو ضرور کریں تاکہ وہ توجہ کے ساتھ دعائیں مانگیں البتہ والدین سے طالب علم کی خامیوں کا ایسا تذکرہ با لکل بھی نہ کریں کہ جس سے وہ مایوس ہوں*

15، *استاذسچے دل سے اس بات کی نیت کرے کہ مجھے ہر حال میں ان کمزور طلبا کو اچھے طلباکی فہرست میں لانا ہے، انشاءاللہ جب استاذ سچی نیت کرے گا تو اللہ تعالی ضرور مدد فرمائیں گے*

*از افادات*
*استاذ المکرم شیخ الحدیث حضرت مولانا حبیب اللہ نقشبندی مجددی دامت برکاتہم*

Page 1 of 3

Donate

Online Payment

Online Payment

Cheque Payment

Cheque Payment

Cash Payment

Cash Payment

Deposit in the Account of

Tahreek Paigham-e-Islam, B.O.I

Account No.: 595820110000026

Submit your cheque in the Account of

Tahreek Paigham-e-Islam, B.O.I

Cash Payment can be deposited at

Tahreek's Head office at Hussaini Masjid