Monday 10 December 2018

Dars E Quran Dars E Hadess Books Library Media Gallery

Dars E Quran

Saturday, 20 September 2014 05:30

درس حدیث

Written by
Rate this item
(0 votes)

درس حدیث

دعا اور وسیلہ: قرآن وشریعت کی روشنی میں
توسل یعنی وسیلہ اختیار کرنے کا مسئلہ نص قطعی سے ثابت ہے اور اس کا مطلقًا انکارقرآنی آیات کا انکار ہے۔ فرمان باری تعالیٰ ہے ’’ یَااَیُّھَاالَّذِیْنَ اٰمَنُوْا اتَّقُو اللّٰہَ وَابْتَغُوْا اِلَیْہِ الْوَسِیْلَۃَ۔(مائدہ:۳۵) ترجمہ: اے ایمان والو! اللہ سے ڈرو اور اس کی طرف وسیلہ ڈھونڈو۔ ہر وہ چیز جسے اللہ نے اپنے تقرب کا سبب اور اپنے بندوں کی حاجتیں پوری کرنے کا ذریعہ بنایا ہو، اسے وسیلہ کہتے ہیں۔ درحقیقت اللہ تعالیٰ کی بارگاہ میں بندے کی دعاکی قبولیت اور حاجت بر آری کے لیے اپنی عاجزی ومجبوری کے اعتراف کے ساتھ کسی مقبول عمل یا اس کے کسی محبوب بندے کا واسطہ پیش کرنا ’’وسیلہ ‘‘ہے؛ تاکہ بندہ گنہگار کی دعا

جلدقبول ہواور اللہ رب العزت اپنے اس محبوب ومقرب بندے کی خاطر اس کی حاجت پوری فرمائے۔

 

 ایک صحابی ، رسول اللہ صلی اللہ علیہ وسلم کی محبت میں اس قدر بیقرار رہتے تھے کہ روز آپ کا دیدار کر کے سکون حاصل کیا کرتے تھے لیکن پھر جب انہیں موت کی یاد آئی تو انہوں نے آزردہ ہو کر نبی کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم سے کہا کہ میں جنت میں گیا بھی تو آپ تک نہیں پہنچ سکوں گا کیونکہ جنت میں آپ انبیاء کے ساتھ اعلیٰ درجات میں ہوں گے ۔۔۔۔ اور جب آپ کے دیدار سے محروم رہوں گا تو یہ سوچ کر بےچین ہو ہو جاتا ہوں۔ اس پر اللہ تعالیٰ نے سورۃ النساء کی یہ آیت نازل فرمائی وَمَن يُطِعِ اللّهَ وَالرَّسُولَ فَأُوْلَـئِكَ مَعَ الَّذِينَ أَنْعَمَ اللّهُ عَلَيْهِم مِّنَ النَّبِيِّينَ وَالصِّدِّيقِينَ وَالشُّهَدَاء وَالصَّالِحِينَ وَحَسُنَ أُولَـئِكَ رَفِيقًا جو لوگ اللہ اور رسول کی اطاعت کریں گے وہ ان لوگوں کے ساتھ ہوں گے جن پر اللہ نے انعام فرمایا ہے یعنی انبیاء ، صدیقین ، شہداء اور صالحین ، کیسے اچھے ہیں یہ رفیق جو کسی کو میسر آئیں۔ سورہ النساء ، آیت:69 لہذا آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی محبت کا تقاضا یہ ہے کہ زندگی کے تمام معاملات میں قدم قدم پر آپ صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اتباع اور اطاعت کی جائے۔ جو محبت ، سنتِ رسول پر عمل کرنا نہ سکھائے ، وہ محض دھوکہ اور فریب ہے ـ جو محبت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی اطاعت اور پیروی نہ سکھائے ، وہ محض جھوٹ اور نفاق ہے ـ جو محبت رسول اکرم صلی اللہ علیہ وعلی آلہ وسلم کی غلامی کے آداب نہ سکھائے ، محض ریا اور دکھاوا ہےــ جو محبت ، رسول کریم صلی اللہ علیہ وآلہ وسلم کی سنت کے قریب تر نہ لے جائے ، وہ محض شوروشغف، پروپگنڈہ اور تضیع اوقات ہے ـ

 

 #درس قرآں گر ہم نے نہ بھلایا ہوتا# آپس کے معاملات سدھارنے کے لیے کتنی زبردست ہیں قران حكيم كى یہ نو باتیں ، کاش ہم اسے اپنے عمل میں لائیں!!

*فتبينوا:* کوئی بھی بات سن کر پھیلانے سے پہلے تحقیق کر لیا کرو . کہیں ایسا نہ ہو کہ بات سچ نہ ہو اور کسی کوانجانے میں نقصان پہنچ جائے۔

*فأصلحوا:* دو بھائیوں کے درمیان صلح کروا دیا کرو. تمام ایمان والے آپس میں بھائی بھائی ہیں۔

*وأقسطوا:* ہر جھگڑے کو حل کرنے کی کوشش کرو اور دو گروہوں کے درمیان انصاف کرو. الله کریم انصاف کرنے والوں کو پسند فرماتا ہے۔

*لا يسخر:* کسی کا مذاق مت اڑاؤ. ہو سکتا ہے کہ وہ الله کے نزدیک تم سے بہتر ہو۔

*ولا تلمزوا:* کسی کو بے عزّت مت کرو۔

*ولا تنابزوا:* لوگوں کو برے القابات (الٹے ناموں) سے مت پکارو.

*اجتنبوا كثيرا من الظن:* برا گمان کرنے سے بچو کہ کُچھ گمان گناہ کے زمرے میں آتے ہیں۔

*ولا تجسَّسُوا:* ایک دوسرے کی ٹوہ میں نہ رہو۔

*ولا يغتب بعضكم بعضا:* تُم میں سےکوئی ایک کسی دوسرے کی غیبت نہ کرے کہ یہ گناہ کبیرہ ہے اور اپنے مردہ بھائی کا گوشت کھانے کے مترادف ہے۔

(سورہ الحجرات)

الله کریم اخلاص کیساتھ عمل کرنے کی تو فیق دے۔ آمین یارب العامین۔

 

#اللہ کی راہ میں مال خرچ کرنا بہترین نیکی ہے#

نیکی ، بھلائ، ثواب اور تقویٰ صرف یہ نہیں کہ نماز،روزہ، حج اور اللہ کی تسبیح وتہلیل کرلی جائے بلکہ فرمان خداوندی ہے: لَنْ تَنَالُوا الْبِرَّ حَتَّىٰ تُنْفِقُوا مِمَّا تُحِبُّونَ ۚ وَمَا تُنْفِقُوا مِنْ شَيْءٍ فَإِنَّ اللَّهَ بِهِ عَلِيمٌ #تم ہرگز نیکی کو نہیں پہنچ سکو گے جب تک تم (اللہ کی راہ میں) اپنی محبوب چیزوں میں سے خرچ نہ کرو، اور تم جو کچھ بھی خرچ کرتے ہو بیشک اللہ اسے خوب جاننے والا ہے(آل عمران:۹۲) اور سورہ بقرہ میں ارشاد فرمایاگیا: نیکی صرف یہی نہیں کہ تم اپنے منہ مشرق اور مغرب کی طرف پھیر لو بلکہ اصل نیکی تو یہ ہے کہ کوئی شخص اﷲ پر اور قیامت کے دن پر اور فرشتوں پر اور (اﷲ کی) کتاب پر اور پیغمبروں پر ایمان لائے، اور اﷲ کی محبت میں (اپنا) مال قرابت داروں پر اور یتیموں پر اور محتاجوں پر اور مسافروں پر اور مانگنے والوں پر اور (غلاموں کی) گردنوں (کو آزاد کرانے) میں خرچ کرے، اور نماز قائم کرے اور زکوٰۃ دے اور جب کوئی وعدہ کریں تو اپنا وعدہ پورا کرنے والے ہوں، اور سختی (تنگدستی) میں اور مصیبت (بیماری) میں اور جنگ کی شدّت (جہاد) کے وقت صبر کرنے والے ہوں، یہی لوگ سچے ہیں اور یہی پرہیزگار ہیں(البقرہ:۱۷۷)

Thursday, 04 September 2014 05:30

.

Written by
Rate this item
(2 votes)
Monday, 21 July 2014 05:30

Dars E Quran Part1

Written by
Rate this item
(1 Vote)

Aur Tum Men Ek Giroh Aisa Hona Chahiye Ke Bhalaee Ki Taraf Bulayen Aur Achchhi Baat Ka Hukm Den Aur Burai Se Mana’ Karen Aur Yehi Log Muraad Ko Ponhche.(Al-Imran-104)

 

Search

Membership Form

Donate

Online Payment

Online Payment

Cheque Payment

Cheque Payment

Cash Payment

Cash Payment

Deposit in the Account of

Tahreek Paigham-e-Islam, B.O.I

Account No.: 595820110000026

Submit your cheque in the Account of

Tahreek Paigham-e-Islam, B.O.I

Cash Payment can be deposited at

Tahreek's Head office at Hussaini Masjid